بریکنگ نیوز
latest

ایڈسینس آیڈ

468x60 ایڈسینس ایڈ

world لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
world لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بھارت میں گوگل اور ایپل ایپ اسٹورز سے ’ٹک ٹوک‘ کو ہٹا دیا گیا



نئی دلی: بھارت میں عدالتی حکم کے تحت ویڈیو ایپ ’ٹک ٹوک‘ پر پابندی کے بعد گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور نے بھارتی صارفین تک ’ٹِک ٹوک‘ کی رسائی روک دی۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی سیاست دانوں کی جانب سے چینی ویڈیو ایپ ’ٹک ٹوک‘ پر اعتراضات کے بعد عدالت نے ٹک ٹوک پر پابندی عائد کردی تھی، عدالتی حکم کے بعد گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے بھارتی صارفین کے لیے ٹک ٹوک کو ہٹا دیا گیا اور اب بھارتی صارفین ٹک ٹوک ڈاؤن لود نہیں کرسکیں گے۔
چینی ایپ ٹِک ٹوک (TikTok) اسمارٹ فون ویڈیو ایپلیکیشن ہے، جس میں اسپیشل ایفیکٹس کی مدد سے چھوٹی چھوٹی ویڈیوز بنا کر شیئر کی جا سکتی ہیں، دنیا بھر میں یہ ایپ تیزی سے مقبول ہوئی اور بھارت میں بھی بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی تھی تاہم صارفین نے اس کا زیادہ تر استعمال سیاست دانوں کا تمسخر اُڑانے کے لیے کیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو کی عدالت نے رواں ماہ کی 3 تاریخ کو حکومت کو ٹک ٹوک پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹوک ملک میں فحاشی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔

سعودی عرب میں اپنے ساتھی کو قتل کرنے کےجرم میں 2 بھارتیوں کے سر قلم



ریاض: سعودی عرب میں لوٹ مار کی رقم کی تقسیم کے تنازع پر اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے جرم میں 2 بھارتی شہریوں کے سر قلم کر دیئے گئے۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالتی حکم کی تعمیل میں ریاض میں  ستوندر کمار اور ہرجیت سنگھ نامی 2 بھارتیوں کے اپنے ساتھی کو قتل کرنے کے الزام میں سر قلم کر دیئے گئے۔  عدالت نے رواں برس 28 فروری کو سزا سنائی تھی۔
دونوں ملزمان کو شراب نوشی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں 2015 کو حراست میں لیا گیا تھا جہاں ملزمان نے اپنے ساتھی عارف امام الدین کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا۔ تینوں کے درمیان لوٹ مار کی رقم کی تقسیم پر جھگڑا ہوا تھا۔
سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے کے ترجمان نے شکایت کی کہ بھارتی شہریوں کے سرقلم کرنے سے قبل سفارت خانے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ سعودی قوانین کے باعث دونوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی جائیں گی۔

بھارتی بحریہ کا جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ



نئی دلی: بھارتی بحریہ کا ایک جنگی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تاہم ہیلی کاپٹر میں سوار تینوں اہلکاروں نے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی بحریہ کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا، ہیلی کاپٹر میں موجود پائلٹ نے عملے کے دو اراکین کے ساتھ پیرا شوٹ کی مدد سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی جنہیں سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا۔
بھارتی بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگی ہیلی کاپٹر بحریہ عرب میں تعینات تھا جس میں معمول کی پرواز کے دوران فنی خرابی پیدا ہوگئی، تینوں اہلکار بروقت چھلانگ لگا کر خود کو بچانے میں کامیاب رہے۔ ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تفتیشی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے فضائی اور بحری بیڑوں میں موجود طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی مسلسل گرتی کارکردگی اور پائلٹس کے غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث حادثات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مگ طیاروں کے گرنے کے بعد اب ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہو رہے ہیں۔

قطر میں شادی نہیں مذاکرات ہو رہے ہیں، طالبان کا کابل حکومت کی 250 رکنی ٹیم پر ردعمل



دوحہ: طالبان نے افغان امن مذاکرات کے لیے کابل حکومت کی جانب سے 250 رکنی ٹیم کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں شادی نہیں ہے بلکہ مذاکرات ہورہے ہیں۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امن مذاکرات کے لیے کابل حکومت کی تیار کردہ 250 اراکین کی فہرست پر تمسخرانہ اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کابل کے ہوٹل میں ہونے والی شادی کی تقریب نہیں جس کی ضیافت کا دعوت نامہ بھیجا گیا ہو بلکہ یہ خلیجی ریاست کا منعقد کردہ مذاکراتی اجلاس ہے۔
افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ کابل حکومت کی جانب سے 250 افراد پر مشتمل مذاکراتی ٹیم کا اعلان دراصل مذاکراتی عمل کو تاخیر کا شکار بنانے کی دانستہ سازش ہے، کابل حکومت کی خواہش ہے کہ قطر مذاکرات کی میزبانی سے انکار کردے یا کسی بھی طرح مذاکرات ملتوی ہو جائیں اور کابل حکومت کو افغانستان میں اپنی من مانی کرنے کے لیے مزید وقت مل جائے۔
کابل حکومت نے موقف اختیار کیا کہ افغان طالبان نے کابل انتظامیہ سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیا تھا اور طالبان کے مطالبے پر قطر میں ہونے والے طویل مذاکراتی دور میں کابل حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث 19 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں یہ 250 افراد افغانستان کے عام شہری ہونے کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ کابل حکومت نے 19 اپریل سے قطر میں شروع ہونے والے افغان امن مذاکرات کے لیے 250 افراد کی فہرست مرتب کی ہے جن میں 50 خواتین بھی شامل ہیں۔

جنوبی کوریا میں حکومتی وظیفہ نہ ملنے پرچاقو بردار شخص نے 5 افراد قتل کردیے



سیئول: جنوبی کوریا میں ایک شخص نے اپنے اپارٹمنٹ کو آگ لگا دی اور جان بچا کر بھاگنے والے بلڈںگ کے دیگر رہائشیوں پر چاقو کے وار کر کے 12 سالہ لڑکی سمیت 5 افراد کو قتل کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر جنجو  میں 42 سالہ شخص نے اپنے اپارٹمنٹ کو آگ لگا کر ’ آگ لگ گئی ہے، سب باہر نکلیں‘ کی صدائیں بلند کیں اور جیسے ہی عمارت کے دیگر رہائشی اپنی جان بچانے کے لیے نکلے تو ان پر چاقو کے وار کیے جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے۔
ریسکیو اداروں نے اپارٹمنٹ میں لگی آگ پر قابو پالیا جب کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز نے 2 زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس نے چاقو بردار شخص کو کافی دیر مذاکرات کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے رضامند کر لیا۔ 42 سالہ شخص کا کہنا تھا کہ اس نے یہ انتہائی قدم اپنے حکومتی وظیفے اور دیگر واجبات کی کافی عرصے سے عدم ادائیگی کے باعث اُٹھایا۔ یہ شخص بیروزگار تھا اور گزر بسر حکومتی وظیفے پر تھا۔


ٹرمپ نے یمن میں امریکی مداخلت ختم کرنے کی قرارداد ویٹو کردی



 واشنگٹن: ٹرمپ نے امریکی پارلیمنٹ میں یمن جنگ میں امریکی مداخلت اور سعودی عرب کی حمایت کو ختم کرنے کی قرارداد کو ویٹو کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں صدر ٹرمپ سے یمن جنگ میں امریکی فوج کی مداخلت ختم کرنے اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان کی حمایت ترک کر کے یمن تنازع میں غیر جانبدار رہنے کی استدعا کی گئی تھی۔
یہ قرارداد حکمراں اور اپوزیشن جماعت کے اراکین کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تاہم امریکی صدر نے آئین میں حاصل اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے قرارداد کو ویٹو کردیا، قرارداد ویٹو ہونے کے بعد یمن میں امریکی فوج کی مداخلت اور سعودی عرب کی حمایت جاری رہے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے اقدام کی تائید میں موقف اختیار کیا کہ اگر اس قرارداد کو ویٹو نہ کیا جاتا تو خطے میں موجود امریکی شہریوں اور فوجیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے اور یہ قرارداد اپوزیشن کی جانب سے میرے اختیارات میں کمی کی ایک کوشش بھی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 4 سالہ دور صدارت میں خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے کانگریس کی منظور کردہ کوئی قرارداد دوسری مرتبہ ویٹو کی ہے۔